Technology Transfer through Cyber Extension -- Helping Farmers to Help Themselves
Posted on
28/02/2013
Author Name
Zaraimedia Team
کریلا



کریلا موسم گرما کی ایک اہم اور مقبول ترین سبزی ہے۔ کریلا اپنی طبعی خصوصیات کی بناء پر بہت افادیت کا حامل ہے۔ یہ مختلف بیماریوں مثلاً نظام انہظام کی خرابی، ملیریا، چکن پاکس، زیابیطس اور کینسر جیسی مہلک بیماریوں کے خلاف جسم میں قوت مدافعت بڑھاتا ہے۔ کریلا پنجاب کے قریباً تمام اضلاع میں کاشت کیا جاتا ہے۔ 2011-12کے دوران پنجاب میں کریلا 992ایکڑ رقبہ پر کاشت کیا گیا اور اس سے 117من فی ایکڑ کی اوسط پیداوار سے مجموعی طور پر تقریباً 44ملین ٹن پیداوار ریکارڈ کی گئی۔ معتدل آب و ہوا کریلے کی کاشت کے لیے موزوں ہے ۔ پنجاب میں اس کی کاشت عموماً فروری سے جولائی تک ہوتی رہتی ہے۔ اسکے بیج کے اگاؤ کیلئے 30-25 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ پنجاب کے وسطی اور جنوبی اضلاع فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، رحیم یار خان، بہاولپور، بہاولنگر، ملتان، اور وہاڑی سبز کریلے کیلئے موزوں ہیں۔ جبکہ پنجاب کے شمالی اضلاع شیخوپورہ، لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، اوکاڑہ اور حافظ آباد سبز کریلے اور بیج پیداکرنے کیلئے موزوں ہیں۔کریلے کی کاشت کیلئے زرخیز میرا زمین جس کی تیزابی خا صیت 7یا اس سے کم ہو اور جس میں پانی کا نکاس اچھا ہوبہترین ہے۔ زمین میں نامیاتی مادہ کی مقدار میں مناسب اضافہ کیلئے فصل کاشت کرنے سے کم از کم ایک ماہ قبل10تا 12 ٹن فی ایکڑ کے حساب سے گوبر کی گلی سڑی کھاد ڈال کر مٹی پلٹنے والا ہل چلائیں تاکہ زمین زیادہ گہرائی تک نرم جا سکے اور اگر پہلے سے کوئی فصل کاشت کی گئی ہو تو اُسکے مڈھ جڑوں سے اُکھڑ جائیں اور گل جانے پر نامیاتی مادے میں اضافہ کا سبب بن سکیں۔ کھیت کو ہموار کرکے کیاریوں میں تقسیم کر لیں اور راؤنی کر دیں۔ وتر آنے پر دو یا تین بار سہاگہ چلا کر زمین کو اچھی طرح نرم اور بُھر بُھرا کر لیں۔ داب کے طریقے سے جڑی بوٹیوں کو تلف کرنے کیلئے چند دن کیلئے چھوڑ دیں۔’’فیصل آباد لانگ‘‘ محکمہ کی سفارش کردہ قسم ہے اور اسی کو ترجیح دینی چاہیے۔ اس قسم کے پودوں کا رنگ ہلکا سبز ہوتا ہے اور یہ قسم جلد پک کر تیار ہو جاتی ہے۔ کریلے کی کاشت وسط فروری سے اپریل تک کی جاتی ہے اور یہ مئی سے ستمبر تک پھل دیتی ہے۔ پچھیتی فصل جون ، جولائی میں کاشت کی جاتی ہے اور اس فصل کا پھل عموماً اگست سے نومبر تک حاصل ہوتا ہے۔بیج کی شرح کا دارومدار قسم کے اگاؤ پر ہوتا ہے۔اچھی روئیدگی والا 2.0 تا2.5 کلوگرام بیج فی ایکڑ کافی ہوتا ہے۔ اگر بیج کی روئیدگی اتنی خاطر خواہ نہ ہو تو پھر 4.5-3.5 کلوگرام فی ایکڑ شرح بیج مناسب ہوتی ہے۔کریلے کی بوائی کے وقت 3بوری سنگل سپر فاسفیٹ ، ایک بوری امونیم نائٹریٹ اور ایک بوری پوٹاش فی ایکڑ ڈالیں۔ پھُول آنے پر آدھی بوری یوریا فی ایکڑ استعمال کریں۔ بعدازاں ہرتین چنائیوں کے بعد آدھی بوری یوریا فی ایکڑ ڈالتے رہیں۔تیار شدہ زمین پر 2.5میٹر پر لگے ہوئے نشانوں کے دونوں طرف مندرجہ بالا تناسب سے کھاد بکھیر دیں اور بعد میں پٹڑیاں بنائیں۔ پٹڑیوں کی نالیاں189 میٹر چوڑی رکھیں۔پٹریوں کے دونوں طرف کناروں پر تقریباً 45سینٹی میٹر کے فاصلے پر دو سے تین بیج 3سینٹی میٹر گہرے بوئیں اور کھیت کی آبپاشی کر دیں۔ بیج کو کاشت سے پہلے پھپھوندکش دوائی بحساب 3-2گرام فی کلوگرام بیج لگائیں۔پہلی آبپاشی کاشت کے فوراً بعد کریں اس کے بعد ہفتہ وار آبپاشی کرتے رہیں۔ جب موسم گرم ہو جائے تو آبپاشی چار دن کے وقفہ سے کریں یا پھر ضرورت کے مطابق کریں۔ چونکہ کریلے کی فصل موسم گرما کی فصل ہے اس لئے اس کی آبپاشی کے سلسلہ میں غفلت نہیں برتنی چاہیے جتنی زمین ٹھنڈی رہے گی اتنے ہی پھول زیادہ آئیں گے اور پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ تجربات سے پتہ چلا ہے کہ اگر بیج 12گھنٹے پانی میں بھگو کر کاشت کیا جائے تو دوسری آبپاشی پرہی سو فیصد اگاؤ ہو جاتا ہے۔جب فصل اُگ جائے اور تین پتے نکال لے تو چھدرائی کرکے ہر جگہ صحت مند پودا چھوڑ کر فالتو پودے نکال دیں۔ جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لئے گوڈی کریں۔ پودوں کو مٹی بھی چڑھا دیں۔ فصل کو جڑی بوٹیوں سے صاف رکھنے کیلئے جب بھی ضرورت ہو گوڈی ضرور کریں ورنہ پیداوار متاثر ہو گی۔

گھیا کدو

گھیا کدو موسم گرما کی ایک اہم اور انتہائی مفید سبزی ہے۔ پاکستان میں وسیع رقبہ پر کاشت کیا جاتا ہے۔ پنجاب کے مختلف اضلاع میں کاشت کیا جاتا ہے ۔پنجاب میں 2011-12کے دوران گھیا کدو 5504ایکڑ رقبہ پر کاشت کیا گیاع جبکہ پیداوار 27842ملین ٹن ریکارڈ کی گئی۔ گھیا کدو کی اوسط پیداوار تقریباً 136ملین ٹن فی ایکڑ ہے۔ غذائی اعتبار سے گھیا کدو میں نشاستہ، چکنائی، کیلشیم، آئرن، فاسفورس اور حیاتین کے اجزاء پائے جاتے ہیں۔ گھیا کدو کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے اور یہ شوگر، بلڈپریشر، دل، جگر، پھیپھڑوں، کھانسی اور دمہ کے امراض کو کنٹرول کرنے میں بہت مفید ہے۔ میدانی علاقوں میں عام طور پر گھیا کدو کی تین فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔ پہلی فصل فروری/مارچ ، دوسری جولا ئی/ اگست میں جبکہ تیسری فصل اکتوبر کے آ خر یا نومبر کے شروع میں کاشت کی جاتی ہے۔ اکتوبر نومبر میں کاشت ہونے والی فصل کو کہر کے اثر سے محفو ظ کرنے کے لیے سرکنڈے وغیرہ کے چھپر استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ پہا ڑوں پر اس کی کاشت اپریل اور مئی میں کی جاتی ہے۔اسکی عام طور پر دو اقسام کاشت کی جاتی ہیں۔ ایک قسم گول اور دوسری لمبی ہوتی ہے جسے لوکی بھی کہتے ہیں جو زیادہ ترپہاڑی علاقوں میں کاشت کی جاتی ہے۔ ترقی دادہ اقسام میں فیصل آباد گول زیادہ پیداوار دینے والی قسم ہے۔اچھی روئیدگی والا دو سے اڑھائی کلوگرام بیج ایک ایکڑکے لیے کافی ہوتا ہے۔زرخیز میرا زمین جس میں نامیاتی مادہ وافر مقدار میں موجود ہو اور پانی دیر تک جذب رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہو موزوں ہے۔ تھور اور سیم زدہ زمینو ں میں اسے کاشت نہیں کرنا چا ہئے۔بوائی سے ایک ماہ پہلے 10سے15ٹن گوبر کی گلی سڑی کھاد ڈال کر زمین میں اچھی طرح ملا دیں اور بعد میں کچی راؤنی کر دیں وتر آنے پر زمین میں ہل اور سہاگہ چلائیں۔ اس طرح کھیت میں موجود جڑی بوٹیوں کے بیج اُگ آئیں گے جو کاشت کے وقت زمین کی تیاری کے دوران آسانی سے تلف کیے جاسکتے ہیں۔ بوائی کے وقت تین سے چاربار ہل اور سہاگہ چلائیں تاکہ زمین نرم اور بھربھری ہو جائے۔ زمین کا ہموار ہونا بہت ضروری ہے۔ زمین کی تیاری کے بعد کھیت میں 3 سے4میٹر کے فاصلے پر ڈوری سے نشان لگائیں اور ان نشانوں کے دونوں اطراف چار بوری سنگل سپر فاسفیٹ ، ایک بوری امونیم سلفیٹ اور ایک بوری پوٹاش یا ڈیڑھ بوری ڈی اے پی اور ایک بوری پوٹاش فی ایکڑ ملا کر ڈال دیں۔ بعد ازاں نشانوں سے مٹی اٹھا کر پٹڑیاں بنائیں ۔ اس بات کا خاص طور پر خیال کریں کہ پٹڑیوں کے درمیان والی نالی 40 سے50 سینٹی میٹر چوڑی اور 20 سے 25 سینٹی میٹر گہری ہو۔ اس طرح زمین کاشت کیلئے تیار ہو جاتی ہے۔پٹڑی کے دونوں کناروں پر50-40سینٹی میٹر کے فاصلہ پر دو دو بیج مناسب گہرائی پر بذریعہ چوکا لگائیں۔ اگر کاشت سے 10-8 گھنٹے قبل بیج کو پانی میں بھگو دیں تو اسکا اگاؤ بہت اچھا ہو جاتا ہے۔ پہلا پانی کاشت کے فوراً بعد لگا دیا جائے اور خیال رکھیں کہ پانی بیج کی سطح سے اوپر نہ جائے وگرنہ کرنڈ کی وجہ سے بیج کا اُگاؤ متاثر ہو گا۔ اگر آبپاشی شام کے وقت ہو تو اس کا بہت فائدہ ہوتا ہے اس کے بعد ایک ہفتہ کے وقفہ سے آبپاشی کرتے رہیں۔ بارش ہونے کی صورت میں آبپاشی کا دورانیہ بڑھایا جا سکتا ہے۔ اُگنے کے بعد جب فصل تین چا ر پتے نکال لے تو ہر جگہ ایک صحت مند پودا چھوڑ کر باقی پودے نکال دیں۔ فصل کو جڑی بوٹیوں سے پاک رکھنے کیلئے مختلف اوقات میں تین چار مرتبہ گوڈی کریں۔ ہر تیسری یا چوتھی چنائی کے بعد ایک بوری امونیم نائٹریٹ یا آدھی بوری یوریا نالیوں میں بکھیر کر گوڈی کرنے اور مٹی پودوں کی جڑوں کے ساتھ لگاکر آبپاشی کرنے سے پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتاہے۔

موسم گرما کی سبزیاں کاشت کرکے کاشتکار معاشی استحکام کے حصول کو ممکن بنا سکتے ہیں کیونکہ سبزیوں کی قیمت دیگر فصلات کی نسبت زیادہ ملتی ہے اور جلد پیداوار حاصل ہونے سے فصل کے کاشتی دیکھ بھال کے اخراجات بھی ساتھ ساتھ پورے کئے جا سکتے ہیں۔

***

Agriculture in Pakistan

Copyright:  Zaraimedia.com